عبادات - حج وعمرہ

Canada

سوال # 3420

اگر کوئی بریلوی شخص حج کرنے جائے اور صرف اس لیے کہ امام کعبہ وہابی دیوبندی عبدالوہاب نجدی کا ماننے والا ہے ان کے پیچھے نماز نہ پڑھے، کیا اس کا حج ہوجائے گا؟ اورحج میں امام کے کعبہ کے پیچھے نماز پڑھنے کا تعلق کیسے آتا ہے اور امام کعبہ کے پیچھے نماز پڑھنا کیوں ضروری ہے؟

Published on: Jan 19, 2008

جواب # 3420

بسم الله الرحمن الرحيم

فتوی: 69/ ک


 


خانہٴ کعبہ (مسجد حرام) میں نماز پڑھنا ایک لاکھ نماز کے برابر ثواب رکھتا ہے، جیسا کہ حدیث صحیح میں وارد ہے اور جماعت سے نماز پڑھنا ستائیس گنا زیادہ ثواب رکھتا ہے اور جماعت میں نمازیوں کی تعداد جس قدر زائد ہوگی اسی حساب سے نماز کے ثواب میں بھی اضافہ ہوگا۔ لہٰذا مکہ مکرمہ پہنچ کر مسجد حرام میں نماز پڑھنے سے محروم رہنا بہت بڑا خسارہ ہوا، اور وہاں کی جماعت کو ترک کرنا بہت بڑا گناہ ہوا۔ جتنے روز قیام رہا، ہرنماز کے حساب سے کس قدر خسارہ ہوا اور کتنی محرومی ہوئی اس کا شمار بھی دشوار ہے۔ حج کے ادا ہونے کا تعلق ارکانِ حج کی صحیح ادائیگی سے ہے اگر ارکان حج صحیح طور پر ادا کرلیے تو حج ادا ہوجائے گا، مگر مذکورہ محرومیوں اور خساروں کے ساتھ۔


واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات