عبادات - حج وعمرہ

India

سوال # 2331

(۱) میرے بہنوئی کی فیملی جدہ، سعودی عرب میں ہے، وہ سب یہ جانناچاہتے ہیں کہ کیا ہم شوال، ذی قعدہ، ذی الحجہ کے مہینے میں اپنے مرحوم رشتہ داروں کے ایصال ثواب کے لیے عمر ہ کر سکتے ہیں؟


(۲) عصر کے وقت احرام باندھنے کے بعد عصر کے بعد اور مغرب سے پہلے دو رکعات نفل پڑھ سکتے ہیں یا نہیں؟


 

Published on: Dec 11, 2007

جواب # 2331

بسم الله الرحمن الرحيم

فتوی: 594/ ل= 594/ ل


 


(۱) ان مہینوں کی کوئی تخصیص نہیں ہے کسی بھی مہینے میں دوسرے کے نام عمرہ کرکے ان کو اس کا ثواب پہنچایا جاسکتا ہے: الأصل في ھذا الباب أن الإنسان لہ أن یجعل ثواب عملہ لغیرہ صلاة أو صومًا أو صدقة أو غیرھا․․․ وفي الحج النفل تجوز الإنابة حالة القدرة لأن باب النفل أوسع (ھدایة: ج۱ ص۲۹۶)


(۲) عصر کے بعد اور مغرب سے پہلے نفل پڑھنا ناجائز ہے اس لیے اس وقت میں اگر کوئی احرام باندھتا ہے تو وہ نفل کے بغیر احرام کی نیت کرلے۔


واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات