عبادات - حج وعمرہ

Pakistan

سوال # 172141

ہل یذبح الحاج أن یذبح أضحیة فی بلدنا الذی سکن مرة أخری..!؟

Published on: Aug 7, 2019

جواب # 172141

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:1039-845/sn=12/1440



لوکان الحاج مسافرا شرعیا فی منی أیام الأضحیة لا تجب علیہ الأضحیة لا فی مکة ولا فی بلدہ الذی یسکنہ أی فی وطنہ، فلو کان مقیما بأن أقام فی مکة المکرمة قبل الذھاب إلی منی خمسة عشر یوما تجب علیہ الأضحیة بشرط أن یملک نصاب الأضحیة. ولہ خیار أن یذبح فی مکة أو فی وطنہ عن طریق وکیلٍ لہ ، فلو ضحّی فی مکة المکرمة لاتجب علیہ إعادتھا فی وطنہ. ففی الدر المختار مع رد المحتار: وشرائطہا: الإسلام والإقامة... (قولہ وشرائطہا) أی شرائط وجوبہا... والمعتبر وجود ہذہ الشرائط آخر الوقت وإن لم تکن فی أولہ کما سیأتی (قولہ والإقامة) فالمسافر لا تجب علیہ وإن تطوع بہا أجزأتہ عنہا (الدر المختار وحاشیة ابن عابدین (رد المحتار) 9/ 553،ط: زکریا)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات