عبادات - حج وعمرہ

India

سوال # 171720

حج اور عمرہ میں جو دم دیا جاتا ہے کیا اس جانور کا گوشت صاحب حج وعمرہ اور اس کے گھر والوں کے لیے کھانا جائز ہے؟ براہ کرم، تسلی بخش جواب مرحمت فرمائیں۔

Published on: Jul 30, 2019

جواب # 171720

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:948-779/N=11/1440



حج قران یا تمتع میں حاجی پر بہ طور شکر جو قربانی واجب ہوتی ہے، اس کے گوشت کا حکم عام قربانی کی طرح ہے، یعنی: اس کا گوشت صاحب قربانی خود بھی کھاسکتا ہے اور دوسروں کو بھی کھلاسکتا ہے خواہ وہ مال دار ہوں یا غریب؛ البتہ اگر حاجی پر کسی جنایت کے ارتکاب کی وجہ سے دم واجب ہوا تو اس کا سارا گوشت نذر کی قربانی کی طرح غریبوں کو ہی دیدینا ضروری ہے، اُس سے نہ خود صاحبِ دم کھاسکتا ہے اور نہ کوئی مال دار۔



وذبح للقران وھو دم شکر فیأکل منہ (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الحج، باب القران، ۳: ۵۵۷، ۵۵۸، ط: مکتبة زکریا دیوبند)، قولہ: ”فیأکل منہ“:أي: بخلاف دم الجنایة (رد المحتار)، وذبح کالقارن (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الحج، باب التمتع، ۳: ۵۶۵)، قولہ: ”وذبح کالقارن“: التشبیہ في الوجوب والأحکام المارة في ھدي القران (رد المحتار)۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات