عبادات - حج وعمرہ

Pakistan

سوال # 166191

میرے خاندان والوں نے مجھَے بہت تنگ کیا ہے ،میرے پیچھے غلط باتیں پھیلائیں ہر طرح سے مجھے نقصان پہنچانے کی کوشش کی اب میں خیر سے عمرہ پر جا رہا ہوں تو دور دور سے سب آرہے ہیں اور دعا کرنے کے لیے کہ رہے ہیں پر میرا دل نہیں کر رہا کی کسی کو بھی دعا دو۔ پر بد دعا بھی نہیں کروں گا بلکہ صرف یہ دعا کروں گا کہ جیسا انھوں نے میرے ساتھ کیا ہے الللہ رب العزت ان کے ساتھ ویسے پیش آَِے ۔ذراوضاحت فرمائیں۔

Published on: Nov 27, 2018

جواب # 166191

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 127-144/SN=3/1440



مذکور فی السوال دعا بھی آپ مانگ سکتے ہیں؛ لیکن اگر آپ ان لوگوں کو معاف کردیں اور ان کے حق میں دعائے خیر کریں تو اعلی بات ہے، ایک حدیث میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی (عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ) کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: اس شخص کے ساتھ صلہ رحمی کرو جس نے تمہارے ساتھ قطع رحمی کی، اس آدمی کو دو جس نے تمہیں محروم کیا ہے اور اس آدمی کو معاف کردو جس نے تم پر ظلم کیا ہے۔ یا عقبتة بن عامر! صِل من قطعک ، وأعطِ من حرمک واعف عمن ظلمک (مسند أحمد، رقم: ۱۷۴۵۲) ۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات