عبادات - حج وعمرہ

Pakistan

سوال # 165803

سعودی طیارے ( جبکہ سفر کسی اور ملک کا ہو) سے سفر کے دوران جدہ میں رکنا ہوتا ہے۔ عمرہ کا شوق تو ہوتا ہے مگر موقعہ نہیں ہوتا۔ اگر اچانک وہاں سے اجازت ہوجائے یعنی جدہ اترنے کے بعد تو احرام کے لیے میقات جانا لازمی ہوگا یا حدود حرم سے پہلے احرام باندھ سکتے ہیں؟

Published on: Dec 16, 2018

جواب # 165803

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 80-209/SN=4/1440



اگر اچانک کبھی وہاں پہنچنے کے بعد عمرہ کرنے کی اجازت مل جائے تو وہیں یعنی جدہ سے یا حدود حرم سے پہلے کسی جگہ سے احرام باندھ کر عمرہ کرسکتے ہیں، میقات جانا ضروری نہیں ہے؛ کیونکہ صورت مسئولہ میں آپ کا ارادہ پہلے سے صرف ”جدہ“ جانے کا ہے، حرم میں داخل ہونے کا نہیں ہے، حرم میں داخل ہونے کا ارادہ وہاں پہنچنے کے بعد ہو رہا ہے؛ لہٰذا وہاں کے لوگوں کے لئے احرام عمرہ کا جو حکم ہوگا وہ آپ کے حق میں بھی ہوگا اور وہاں کے لوگوں کے لئے حکم وہی ہے جو اوپر تحریر کیا گیا۔ وحرم تاخیر الإحرام عنہا کلہا لمن أي لآفاقي قصد دخول مکة یعني الحرم ولو لحاجة غیر الحج، أما لو قصد موضعاً من الحلّ کخلیص وجدة حلّ لہ مجاوزتہ بلا إحرام، فإذا دخل بہا التحق بأہلہ ․․․․․ وحلّ لأھل داخلہا یعنی لکل من وجد فی داخل المواقیت دخول مکة غیر محرم مالم یرد نسکاً ․․․․․ میقاتہ الحل الذي بین المواقیت والحرم الخ (درمختار مع الشامی: ۳/۴۸۱، تا ۴۸۴، ط: زکریا) ۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات