عقائد و ایمانیات - حدیث و سنت

India

سوال # 337

میں نے درج ذیل حدیث بچپن میں سنی تھی اور اس پر یقین رکھتا تھا، لیکن مختلف چیزیں پڑھنے کے بعد میں شک و ارتیاب میں پڑگیا ہوں۔ براہ مہربانی میری رہ نمائی فرمائیں۔ میری پوری زندگی میں کسی نے بھی مجھے نہیں بتایا کہ میں دیوبندی ہوں یا کچھ اور، بس مجھے اتنا معلوم تھا کہ میں مسلمان ہوں (بہر حال مجھے معلوم تھا کہ میری والدین دیوبندی ہیں)۔ میں اب بھی صرف مسلمان رہنا چاہتا ہوں اور دیوبندی، بریلوی، وہابی وغیرہ کے متعلق کنفیوژ ہوں۔


 


وہ حدیث یہ ہے: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر مکھی پانی میں گر جائے تو اس کو اسی میں غوطہ دو ، کیوں کہ اس کے ایک پر میں بیماری ہوتی ہے اور دوسرے میں علاج ہوتا ہے۔ (بخاری، جلد ۴، کتاب ۵۴، نمبر ۵۳۷)


 


جب کہ میڈیکل کی دنیاکہتی ہے کہ بہت سے بیکٹیریا اور پیراسائٹ ہوتے ہیں جو مکھیوں پر غالب آجاتے ہیں اور اس کی وجہ سے مکھیاں (مس کے ذریعہ یا لعاب دہن کے راستے) بہت سی بیماریوں کے پھیلنے کا سبب بن جاتی ہیں۔ گندگیوں پر چلنے پھرنے سے ان کے پاؤں پر تقریباًساٹھ لاکھ بیکٹیریاآجاتے ہیں۔ اسی لیے ایسی چیزوں سے کھانے پینے سے بچنا چاہیے جسے کسی مکھی نے مس کردیا ہو۔

Published on: May 3, 2007

جواب # 337

بسم الله الرحمن الرحيم

(فتوى: 449/هـ=666/هـ)


 


جس طرح میڈیکل دنیا اور سائنس کو مکھی کے پیروں میں ساٹھ لاکھ بیکٹیریا نظر آتے ہیں اور ہمیں اور آپ کو ایک بھی بیکٹیریا نظر نہیں آتا اسی طرح مکھی کے ایک پر میں مادہٴ شفاء اللہ پاک نے پیدا کیا ہے کہ جس کو حضرت نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی نظر مبارک تو دیکھتی تھی یا اللہ پاک کے بتلانے سے علم ہوا تھا، مگر اہل سائنس اور میڈیکل دنیا یا کسی اور کو اب تک وہ نظر نہیں آیا تو اس میں تعجب کی کیا بات ہے؟ بہت ممکن ہے آئندہ قریبی زمانہ میں میڈیکل دنیا کو بھی نظر آجائے اور وہ اپنا موجودہ نظریہ بدل کر مطابق حدیث نظریہ اپنانے پر مجبور ہوجائیں۔


واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات