عقائد و ایمانیات - حدیث و سنت

India

سوال # 168640

غدیر خم کا اصل مسئلہ کیا ہے؟ اس موقع پر پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کونسی نصیحت کی؟

Published on: Feb 25, 2019

جواب # 168640

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:633-51T/L=6/1440



غدیر خم ایک چشمہ کا نام تھا جس کے نام سے ایک علاقہ کا نام مشہور ہے جو مکہ مدینہ کے درمیان مقامِ جحفہ سے تین میل کے فاصلہ پر واقع ہے ،حجة الوداع سے واپسی کے موقع پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں قیام فرمایا تھا اور یہیں ایک خطبہ دیا تھا ،خطبہ کا پسِ منظر یہ ہے کہ ماہِ رمضان المبارک کی دس ہجری کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علیکو تین سو آدمیوں کا سردار بناکر یمن کی جانب روانہ فرمایا تھا اس دوران کچھ صحابہ کو بتقاضہ بشریت حضرت علی سے کچھ دوستانہ شکایت ہو گئی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجمع عام میں حضرت علیکے خلوص اور ان کے مرتبہ کا اظہار فرمایاتاکہ لوگوں کے دل صاف ہوجائیں اور حضرت علیکی عظمت کا پتہ چل جائے ۔حدیث کے الفاظ یہ ہیں: عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ وَزَیْدِ بْنِ اَرْقَمَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَمَّا نَزَلَ بِغَدِیرِ خُمٍّ، أَخَذَ بِیَدِ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ، فَقَالَ: أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنِّی أَوْلَی بِالْمُؤْمِنِینَ مِنْ أَنْفُسِہِمْ؟ قَالُوا: بَلَی، قَالَ: أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنِّی أَوْلَی لِکُلِّ مُؤْمِنٍ مِنْ نَفْسِہِ؟ قَالُوا: بَلَی، قَالَ: مَنْ کُنْتُ مَوْلَاہُ، فَعَلِیٌّ مَوْلَاہُ، اللَّہُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاہُ، وَعَادِ مَنْ عَادَاہُ فَلَقِیَہُ عُمَرُ بَعْدَ ذَلِکَ، فَقَالَ لَہُ ہَنِیئًا یَا ابْنَ أَبِی طَالِبٍ، أَصْبَحْتَ وَأَمْسَیْتَ مَوْلَی کُلِّ مُؤْمِنٍ، وَمُؤْمِنَةٍ (رواہ احمد:30/430،الناشر: مؤسسة الرسالة) ترجمہ : حضرت براء بن عازب اور حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غدیر خم پر نزول اور قیام فرمایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر (عام حاضرین و رفقاء سفر سے خطاب کرتے ہوئے ) فرمایا کہ أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنِّی أَوْلَی بِالْمُؤْمِنِینَ مِنْ أَنْفُسِہِمْ (کیا تم نہیں جانتے ہو کہ میں مسلمانوں کا ان کے نفسوں اور ان کی جانوں سے بھی زیادہ دوست اور محبوب ہوں) سب نے عرض کیا کیوں نہیں ہاں ! بے شک ایسا ہی ہے (اس کے بعد) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنِّی أَوْلَی بِکُلِّ مُؤْمِنٍ مِنْ نَفْسِہِ (کیا تم نہیں جانتے کہ میں ہر مسلمان کا اس کے نفس اور اس کی جان سے زیادہ دوست اور محبوب ہوں)سب نے عرض کیا کیوں نہیں ہاں ! بے شک ایسا ہی ہے (اس کے بعد) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اَللَّہُمَّ مَنْ کُنْتُ مَوْلَاہُ، فَعَلِیٌّ مَوْلَاہُ، اللَّہُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاہُ، وَعَادِ مَنْ عَادَاہُ (اے اللہ ! میں جس کا دوست ہوں تو یہ علی بھی اس کے دوست ہیں ، اے اللہ جو علیسے دوستی رکھے تو اس سے دوستی فرما اور جو اس سے دشمنی رکھے تو اس کے ساتھ دشمنی کا معاملہ فرما) اس کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ملے اور (ان کو مبارک باد دیتے ہوئے ) فرمایا کہ تمہیں مبارک ہو اے ابن ابی طالب ! کہ تم ہر صبح اور ہر شام (یعنی ہر وقت) ہر مومن اور مومنہ کے دوست اور محبوب ہو گئے۔ (مسند احمد)واقعہ اتنا ہی تھا ؛البتہ شیعوں نے اس جملہ ”من کنت مولاہ فعلی مولاہ الخ“ حضرت علیکے خلیفہ بلا فصل ہونے پر استدلال کرنا شروع کردیا جس کی تائید کسی بھی طرح نہیں ہوتی۔ مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو (رد شیعیت: ۴/۴،نجم الفتاوی: ۱/۲۹۳، کتاب النوازل ۲/۴۹۲وغیرہ )



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات