عقائد و ایمانیات - حدیث و سنت

India

سوال # 168466

کیا کسی روایت میں یہ منقول ہے کہ انبیاء سابقین میں چند ایک نے یہ دعا فرمائی ہو کہ "یا اللہ! تو ہمیں نبی اور رسول بناکر نہ بھیجتا بلکہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا امتی بنادیتا،یہ بات بہت سے لوگوں کی زبانی سنی ہے لیکن وہ سب عامة الناس میں سے ہیں، اگر اس جیسی کوئی روایت کہیں منقول ہو تو ضرور مطلع فرمائیں ۔

Published on: Mar 11, 2019

جواب # 168466

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:597-62T/L=07/1440



کسی معتبر مرفوع روایت سے انبیاء سابقین کا امتِ محمدیہ میں پیدا ہونے کی تمنا کرنا ثابت نہیں ،بعض کتابوں میں اس طرح کی روایات کاذکر ہے مگر یا تو وہ حددرجہ ضعیف ہیں یا ازقبیلِ اسرائیلیات ہیں جن پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا ۔شیخ ابو نعیم اصفہانی نے ”دلائل النبوة“(۱/۶۸،رقم:۳۱،ط:دارالنفائس ) میں حضرت ابو ہریرةسے مرفوعاً ایک طویل روایت ذکر کیا ہے جس میں حضرت موسی علیہ السلام کا امتِ محمدیہ میں داخل ہونے کی دعا مذکور ہے ،اور اس روایت کا حاصل یہ ہے کہ حضرت موسی علیہ السلام نے تورات میں اس امت کے فضائل دیکھے تو یہ خواہش کی کہ یہ امت ان کی امت بنادی جائے تو ارشادہوا ”تلک أمة أحمد صلی اللہ علیہ وسلم“ جب بار بار یہی جواب ملا تو پھر حضرت موسی علیہ السلام نے یہ درخواست کی کہ ”یا رب فاجعلنی من أمة أحمدصلی اللہ علیہ وسلم“؛ لیکن اس روایت کی سند میں ”جبارہ ابن المغلس الحمانی الکوفی “ہے جو ضعیف ہے ۔ قال فی تقریب التہذیب: جُبَارة بالضم ثم موحدة ابن المغلس بمعجمة بعدہا لام ثقیلة (مکسورة) ثم مہملة الحمانی بکسر المہملة وتشدید المیم أبو محمد الکوفی ضعیف من العاشرة مات سنة إحدی وأربعین.(تقریب التہذیب ص: 137، الناشر: دار النفائس، بیروت)



وقال أبونعیم: وہذا الحدیث من غرائب حدیث سہیل، لا أعلم أحدا رواہ مرفوعا إلا من ہذا الوجہ، تفرد بہ الربیع بن النعمان، وبغیرہ من الأحادیث، عن سہیل، وفیہ لین.(دلائل النبوة لأبی نعیم الأصبہانی ص: 69، الناشر: دار النفائس، بیروت)



اس طرح کی ایک اورروایت ”حلیة الأولیاء“: (۶/۱۸،ط:دارالفکر ) پر مذکور ہے؛ لیکن یہ روایت حضرت کعب الأحبار پر موقوف جو اسرائیلی روایتیں ذکر کرنے میں مشہور ہیں:



ہو: کعب بن ماتع الحمیری، الیمانی، العلامة، الحبر، الذی کان یہودیا، فأسلم بعد وفاة النبی -صلی اللہ علیہ وسلم - وقدم المدینة من الیمن فی أیام عمر -رضی اللہ عنہ - فجالس أصحاب محمد -صلی اللہ علیہ وسلم - فکان یحدثہم عن الکتب الإسرائیلیة، ویحفظ عجائب.(سیر أعلام النبلاء ط الرسالة 3/ 489)



فإن کعب الأحبار لما أسلم فی زمن عمر کان یتحدث بین یدی عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ بأشیاء من علوم أہل الکتاب، فیستمع لہ عمر تألیفا لہ وتعجبا مما عندہ مما یوافق کثیر منہ الحق الذی ورد بہ الشرع المطہر، فاستجاز کثیر من الناس نقل ما یوردہ کعب الأحبار ; لہذا المعنی، ولما جاء من الإذن فی التحدیث عن بنی إسرائیل لکن کثیرا ما یقع فیما یرویہ غلط.(البدایة والنہایة ط ہجر 1/ 35)



اسی طرح حضرت الیاس علیہ السلام سے بھی اس طرح کی دعا کرنا بعض احادیث کی کتابوں میں منقول ہے جیسے مستدرک حاکم 2/674 ، بیھقی کی دلائل النبوہ 5/421 ،ط:دارالکتب العلمیةمیں ، لیکن یہ روایت سند کے اعتبار شدید ضعیف ہے ،حتی کہ امام ذہبی نے تلخیص المستدرک میں موضوع بھی کہا ہے ۔



اسی طرح علامہ طبرانی نے ”المعجم الأوسط“۳/۲۵۵،رقم :۳۰۷،ط:دارالحرمین ،میں ایک طویل روایت ذکر کیا ہے جس میں حضرت خضر علیہ السلام سے اسی طرح دعا کرنے کا تذکرہ ہے ؛ لیکن اس روایت کی اسناد بھی ساقط غیر مستند ہے ۔



بعض کتابوں میں حضرت عیسی علیہ السلام کا اس طرح دعا کرنا اور ان کی دعا کا قبول ہونا مذکور ہے ؛لیکن حضرت عیسی علیہ السلام سے اس طرح کی دعا کرنا اور قبولیت دعا کا تذکرہ صراحت کے ساتھ روایتوں میں کہیں ملا نہیں ، ہاں حافظ ابن حجر نے ( فتح الباری 6/492) میں یہ لکھا ہے :



قال العلماء الحکمة فی نزول عیسی دون غیرہ من الأنبیاء الرد علی الیہود فی زعمہم أنہم قتلوہ فبین اللہ تعالی کذبہم وأنہ الذی یقتلہم أو نزولہ لدنو أجلہ لیدفن فی الأرض إذ لیس لمخلوق من التراب أن یموت فی غیرہا وقیل إنہ دعا اللہ لما رأی صفة محمد وأمتہ أن یجعلہ منہم فاستجاب اللہ دعائہ وأبقاہ حتی ینزل فی آخر الزمان مجددا لأمر الإسلام فیوافق خروج الدجال فیقتلہ والأول أوجہ.(فتح الباری لابن حجر 6/ 493، الناشر: دار المعرفة - بیروت)؛ لیکن حافظ نے اس کا مصدر ذکر نہیں کیا ، مزید یہ کہ اس بات کو مرجوح بھی قرار دیا ہے ۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات