عقائد و ایمانیات - حدیث و سنت

Pakistan

سوال # 168146

کیا فرماتے ہیں علماء کرام مسئلہ ذیل کے متعلق۔ (۱) غائبانہ نماز جنازہ کا کیا حکم ہے ؟ بعض لوگ کہتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت نجاشی کا جنازہ غائبانہ پڑھا تھا، آپ صلی اللہ علیہ و سلم اس وقت مدینہ میں تھے اور حضرت نجاشی حبشہ میں تھے ۔
(۲) کیا حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کسی سے غائبانہ نماز جنازہ پڑھنا ثابت ہے ؟
(۳) کیا ائمہ اربعہ حضرت امام اعظم ابو حنیفہ، حضرت امام مالک،امام شافعی، امام احمد بن حنبل میں سے کسی سے غائبانہ نماز جنازہ پڑھنا ثابت ہے ؟
اگر ہوسکے تو جواب pdf بھیجیں ۔ ازراہ کرم تشفی بخش جواب عنایت فرمائیں۔

Published on: Feb 19, 2019

جواب # 168146

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:490-426/N=6/1440



(۱):احناف کے نزدیک نماز جنازہ درست ہونے کے لیے میت کا سامنے موجود ہونا ضروری ہے ؛ کیوں کہ جنازہ من وجہ امام کی حیثیت رکھتا ہے؛ اس لیے احناف کے نزدیک غائبانہ نماز جنازہ درست نہیں۔ اور حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو حضرت نجاشی کی غائبانہ نماز جنازہ ادا فرمائی، وہ آپ(صلی اللہ علیہ وسلم) کی خصوصیت پر محمول ہے۔



وشرطھا أیضاً حضورہ ووضعہ وکونہ ھو أو أکثرہ أمام المصلي وکونہ للقبلة فلا تصح علی غائب ومحمول علی نحو دابة وموضوع خلفہ ؛ لأنہ کالإمام من وجہ دون وجہ لصحتھا علی الصبي، وصلاة النبي صلی اللہ علیہ وسلم علی النجاشي لغویة أو خصوصیة (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الصلاة، باب صلاة الجنازة، ۳:۱۰۴، ۱۰۵،ط: مکتبة زکریا دیوبند)۔



(۲):احقر کے ناقص علم کے مطابق کسی صحابیسے غائبانہ نماز جنازہ ثابت نہیں۔



(۳): حضرت امام شافعی اور حضرت امام احمد بن حنبلغائبانہ نماز جنازہ کے قائل؛ جب کہ احناف کی طرح مالکیہ قائل نہیں ہیں، باقی امام شافعییا امام احمدمیں سے کسی نے غائبانہ نماز جنازہ پڑھی ہے یا نہیں؟ مجھے معلوم نہیں ۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات