عقائد و ایمانیات - حدیث و سنت

India

سوال # 167915

شعبہ نے ورقاء سے انھوں نے عمرو بن دینار سے ، انھوں نے عطاء بن یسار سے ، انہوں نے حضرت ابو ہریرة رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، " جب نماز کے لئے اقامت ہوجائے تو فرض نماز کے سوا کوئی نماز نہیں۔ تو پھر فجر کے بارے میں کیا حکم ہے جب کہ علماء کہتے ہیں کہ ایک طرف ہو کر پڑھ سکتے ہیں اس بارے میں وضاحت فرما دیں۔

Published on: Jan 29, 2019

جواب # 167915

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 614-519/B=05/1440



بہتر تو یہ ہے کہ فجر کی سنت اپنے گھر پڑھ کر آئے یا مسجد میں اتنی پہلے آئے کہ آرام سے فجر کی سنت جماعت شروع ہونے سے پہلے پڑھ لے۔ اور اگر کبھی اتفاق سے گھر نہیں پڑھ سکا اور مسجد میں بھی ایسے وقت آگیا کہ فجر کی نماز باجماعت شروع ہو گئی ہے اور فجر کی سنت نہیں پڑھی ہے تو اس کے لئے اجازت ہے کہ جس حصہ میں جماعت ہو رہی ہے اس سے دُور ہٹ کر یا کسی کھمبے یا پردے کے آڑ میں یا برابر والے دوسرے حصہ میں سنت پڑھ لے۔ جس جگہ فجر کی جماعت ہو رہی ہے وہاں سنت نہ پڑھے یہ مکروہ ہے اور دُور ہٹ کر یا کھمبے کی آڑ لے کر پڑھنا حضرت عبدا للہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے ثابت ہے اس لئے احناف اس کی گنجائش دیتے ہیں۔ فجر کی سنت چونکہ بہت ہی زیادہ موٴکَّد ہے۔ یہاں تک کہ حدیث میں آیا ہے کہ فجر کی سنت نہ چھوڑو اگر چہ تمہیں گھوڑے روند ڈالیں۔ اس لئے حکم یہ ہے کہ اگر فجر کی نماز ملنے کی امید ہو تو کسی طرف آڑ لے کر یا بہت دُور ہٹ کر سنت ادا کرے اور پھر فرض میں شامل ہو جائے۔ إذا أقیمت الصلاة فلا صلاة إلا المکتوبہ والی حدیث میں حضرت عبد اللہ بن عمر والی حدیث کی وجہ سے تھوڑی رعایت کی گئی ہے کیونکہ فجر کی موٴکد ہے اور ظہر کی سنت میں یہ رعایت نہیں ہے۔ کیونکہ یہ اتنی موٴکد نہیں ہے اور بعد میں پڑھی جاسکتی ہے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات