عقائد و ایمانیات - حدیث و سنت

India

سوال # 167777

کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جمعرات اور پیر کے دن اعمال پیش ہونے کے سلسلے میں کوئی صحیح حدیث ہے یا کوئی آیت ہے یا پھر ضعیف احادیث ہی ہیں تو پھریہ عقیدہ کیسے ثابت ہے ؟کیا یہ اہل سنت کا عقیدہ ہے یا بریلویوں کا؟

Published on: Jan 24, 2019

جواب # 167777

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:419-377/sn=5/1440



جمعرات اور پیر کے روز بندوں کے اعمال اللہ تعالے کے سامنے پیش کئے جاتے ہیں، اِس مضمون کی روایات تو مسلم ترمذی اور دیگر کتب حدیث میں آئی ہیں، ایک روایت میں تو یہ تفصیل بھی آئی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ آ پ پیر اور جمعرات کے روز روزہ رکھتے ہیں اس میں کیا حکمت ہے ؟ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جمعرات اور پیر کے روز بندوں کے اعمال اللہ تعالی کے سامنے پیش کئے جاتے ہیں اور میں چاہتا ہوں کہ میرے اعمال اللہ کے سامنے ایسے وقت پیش ہوں کہ اس وقت میں روزے کے ساتھ رہوں۔



عن أبی ہریرة، أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال:تعرض الأعمال یوم الاثنین والخمیس فیغفر لمن لا یشرک باللہ شیئا، إلا رجلا بینہ وبین أخیہ شحناء یقول: دعوا ہذین حتی یصطلحا.(مسند أبی داود الطیالسی، رقم:2525)



عن أبی ہریرة، أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: تعرض الأعمال یوم الاثنین والخمیس، فأحب أن یعرض عملی وأنا صائم ، حدیث أبی ہریرة فی ہذا الباب حدیث حسن غریب.(سنن الترمذی، رقم:747)



بہ طور خاص پیر اور جمعرات کے روز اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بندوں کے اعمال پیش ہوتے ہیں، اِس سلسلے مجھے کوئی روایت نہیں ملی؛ البتہ احسن الفتاوی (۱/۵۱۹-۵۲۰) میں جمع الفوائد اور الجامع الصغیر وغیرہ سے بعض روایتیں نقل کی گئی ہیں، جن میں جمعہ کے روز یا مطلقاً بغیر کسی دن کی قید کے نبی علیہ الصلاة والسلام پر عرضِ اعمال کا ذکر موجود ہے، انھیں ملاحظہ فرمالیں۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات