عقائد و ایمانیات - حدیث و سنت

Pakistan

سوال # 167671

کیا داڑھی کو بلیڈسے مکمل صاف کرنا سنت ہے یا نہیں؟ اور کیا ٹریمر یا شیور موچھوں پرپھیرنے سے سنت پر عمل ہو گا؟ اور کیا صرف قینچی موچھوں پر پھیرنے سے ہی سنت پر عمل ہوگا؟ وضاحت سے جواب عنایت فرمائیں۔

Published on: Jan 24, 2019

جواب # 167671

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 368-342/D=05/1440



نوٹ: سوال میں لفظ ڈاڑھی لکھا ہوا ہے، شاید وہ غلطی سے لکھ دیا ہوگا، اصل لفظ مونچھ ہوگا، اِسی کے اعتبار سے جواب لکھا جا رہا ہے۔



الجواب وباللہ التوفیق: مونچھیں کاٹنے میں راجح قول یہ ہے کہ ان کو اس طرح کاٹا جائے کہ ہونٹوں کے اوپر کی سرخی نظر آنے لگے۔ واختلف في المسنون في الشارب ہل ہو القص أو الحلق؟ والمذہب عند بعض المتأخرین من مشایخنا أنہ القص۔ قال في البدائع: وہو الصحیح۔ وقال الطحاوي: القص حسن ․․․․․ قال في الفتح: وتفسیر القص أن ینقص حتی ینتقص عن الإطار، وہو بکسر الہمزة: ملتقی الجلدة واللحم من الشفة (شامی: ۳/۵۸۰، ۵۸۱، ط: زکریا دیوبند) وقال الملا علي القاري: قص الشارب: قال ابن حجر: فیسن إحفاوٴہ حتی تبدو حمرة الشفة العلیا (مرقاة المفاتیح: ۲/۸۴، ط: فیصل دیوبند) لہٰذا ٹریمر سے اگر مونچھیں اس طرح کٹ جائیں تو سنت ادا ہو جائے گی، صرف قینچی اس کے لئے متعین نہیں ہے، البتہ مونچھوں کو بالکل بلیڈ اور استرہ سے صاف کرنا بہتر نہیں ہے، اور شیور میں بھی بلیڈ کی طرح ہوجاتا ہے، لہٰذا وہ بھی بہتر نہیں ہے۔ قال الشامی: إذا تردد الحکم بین سنة وبدعة، کان ترک السنة راجحاً علی فعل البدعة (شامی: ۲/۴۰۹، ط: زکریا دیوبند) ۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات