عقائد و ایمانیات - حدیث و سنت

pakistan

سوال # 166928

جھوٹ بولنے اور نماز چھوڑنے پر ایسی احادیث ہیں جن کے ظاہر سے جھوٹ بولنا اور نماز چھوڑنے والا کافر ہو جانا معلوم ہوا ہے کیا اس طرح نکاح بھی دوبارہ کروانا پڑتا ہے کیونکہ کفر سے نکاح ٹوٹ جاتا ہے ؟

Published on: Nov 27, 2018

جواب # 166928

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 398-286/B=3/1440



ایسی کوئی حدیث ہماری نظر سے نہیں گذری کہ جھوٹ بولنے والا کافر ہو جاتا ہے؛ البتہ کبیرہ گناہوں میں سے ایک بڑا گناہ ہے۔ نماز قصداً چھوڑنے والے سے متعلق ایک حدیث آئی ہے کہ: من ترک الصلاة متعمداً فقد کفر۔ جس کا ترجمہ یہ ہے کہ جس نے قصداً نماز چھوڑی اس نے فعلِ کفر کیا۔ یعنی نماز ترک کرنا اور نہ پڑھنا یہ کافروں کا فعل ہے اور مسلمانوں کا فعل نماز پڑھنا ہے یعنی کافر اور مسلمان میں پہچان یہ بتائی ہے کہ مسلمان نماز پڑھتا ہو اور کافر نماز نہیں پڑھتا ہے۔ اس سے کافر نہیں ہوتا، ترک نماز بھی بڑے گناہوں میں سے ایک بڑا گناہ ہے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات