عقائد و ایمانیات - حدیث و سنت

India

سوال # 166853

ہمارے یہاں مرادآباد میں ایک مفتی صاحب نے اپنے بیان میں کہا کہ نکاح میں چھوارے اچھالنا سنت ہے، اس پر ایک بھائی نے ان سے سوال کرا کہ چھوارے اچھالنا سنت ہے یا لوگوں میں بانٹنا ؟ تو مفتی صاحب نے فرمایا کہ اچھال کر بانٹنا سنت ہے، کیا یہ بات صحیح ہے؟ نکاح کے بعد چھوارے اوارے اچھالنے چاہئے جس سے وہ گر بھی جاتے ہیں اور رزق کی بے ادبی ہوتی ہے؟ براہ کرم، رہنمائی فرمائیں۔

Published on: Nov 27, 2018

جواب # 166853

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 345-283/B=3/1440



حضرت اقدس مولانا رشید احمد صاحب گنگوہی نے چھوہارے اچھالنے والی حدیث کو ضعیف بتایا ہے اور اچھالنے سے منع فرمایا ہے۔ چھوہارے لوٹنے میں لوگ بڑی بدتمیزیاں کرتے ہیں جس میں لوگوں کو چوٹ لگ جاتی ہے مسجد میں نکاح ہونے کی صورت میں مسجد کی بے ادبی ہوتی ہے، شرافت اور انسانیت کے ساتھ سب کو تقسیم کر دیا جائے۔ چھوہارے تقسیم کرنے کی سنت ادا ہو جائے گی۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات