عقائد و ایمانیات - حدیث و سنت

Pakistan

سوال # 166729

کیا جمعہ کی نماز کے بعد سورة فاتحہ، احد، فلق اور ناس پڑھنے اور سو مرتبہ سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم استغفراللہ کے فضائل حدیث میں آئے ہیں؟

Published on: Dec 9, 2018

جواب # 166729

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:268-26T/L=4/1440



جمعہ کے بعد اس طرح کے اذکار کا ثبوت ہے ،علامہ نووینے ”اذکار“ میں اور علامہ سیوطینے ”اللمعة فی خصائص الجمعة“ اور ابن سنینے ”عمل الیوم واللیلة“ میں ان اذکار کا ذکر کیا ہے ؛لہذا ان کے پڑھنے کی گنجائش ہے ۔



عن عائشة رضی اللہ عنہا، قالت: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: "مَنْ قَرأ بَعْدَ صَلاةِ الجُمُعَةِ: }قُلْ ہُوَ اللَّہُ أَحَدٌ{ ]سورة الإخلاص) و }قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ{ ]سورة الفَلَقِ) و }قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ{ ]سورة النَّاسِ) سَبْعَ مَرَّاتٍ، أعادہ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ بِہا مِنَ السُّوءِ إلی الجُمُعَةِ الأُخْرَی"․ (الأذکار للنووی:1/300 الأذکا ر فی صلاة مخصوصة الناشر: دار ابن حزم للطباعة والنشر)



الخصوصیة الأربعون: قرائة الإخلاص والمعوذتین والفاتحة بعدہا.



91- أخرد أبو عبید وابن الضریس فی فضائل القرآن عن أسماء بنت أبی بکر قالت: من صلی الجمعة ثم قرأ بعدہا قل ہو اللہ أحد والمعوذتین، والحمد سبعا سبعا حفظ من مجلسہ ذلک إلی مثلہ.



92- وأخرج سعید بن منصور عن محول، قال: من قرأ فاتحة الکتاب والمعوذتین، وقل ہو اللہ أحد سبع مرات یوم الجمعة قبل أن یتکلم کفر.عنہ ما بین الجمعتین، وکان معصومًا.



93- وأخرج حمید بن زنجویہ فی فضائل الأعمال، عن ابن شہاب قال: من قرأ قل ہو اللہ أحد، والمعوذتین بعد صلاة الجمعة حین یسلم الإمام قبل أن یتکلم سبعا سبعا کان مضمونا ہو ومالہ، وولدہ من الجمعة إلی الجمعة․ (اللمعة فی خصائص الجمعة:1/55 الناشر: دار الکتب العلمیة)



عَنْ أَبِی جَمْرَةَ الضُّبَعِیِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: " مَنْ قَالَ بَعْدَ مَا یَقْضِی الْجُمُعَةَ: سُبْحَانَ اللَّہِ الْعَظِیمِ وَبِحَمْدِہِ مِائَةَ مَرَّةٍ، غَفَرَ اللَّہُ لَہُ أَلْفَ ذَنْبٍ، وَلِوَالِدَیْہِ أَرْبَعَةً وَعِشْرِینَ أَلْفَ ذَنْبٍ "( عمل الیوم واللیلةلابن السُّنِّی 1/334 الناشر: دار القبلة للثقافة الإسلامیة ومؤسسة علوم القرآن)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات