عقائد و ایمانیات - حدیث و سنت

Pakistan

سوال # 166590

میرا سوال یہ ہے کہ ہمارے ہاں جب کوئی فوت ہوجاتا ہے تو اُس کے لواحقین سے تعزیت کرنے کے لئے لوگ آتے ہیں اور ہر شخص آتے ہی حاضرین سے کہتا ہے سب دعاء کرو۔مطلب یہ ہوتا ہے کہ میت کے لئے دعائے مغرت کرو۔تمام لوگ ہاتھ اٹھاکر دعاء کرتے ہیں۔پورے تین دن صبح سے شام تک یہی سلسلہ چلتا رہتا ہے کیا یہ طریقہ کار درست ہے یا غلط ہے ؟
مہربان فرماکر قرآن وحدیث سے مسنون طریقہ بتادیجئے اور مکمل حوالہ کے ساتھ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ اور صاحبین سے ثابت طریقہ کار بھی واضح کریں تا کہ صحیح طریقہ کار واضح ہوسکے ۔

Published on: Dec 16, 2018

جواب # 166590

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:223-258/sd=4/1440



انتقال کے بعد تین دن تک میت کے متعلقین کے یہاں ایک بار تعزیت کے لیے جانا مستحب ہے اور تعزیت کا طریقہ یہ ہے کہ میت کے متعلقین کو تسکین و تسلی دی جائے اور صبر کی تلقین کی جائے ، تعزیت کے لیے ہر آنے والا کا حاضرین سے دعاء کے لیے کہنا ، پھر سب کا اجتماعی طور پر دعا کرنا ثابت نہیں ہے ، اپنے طور پر آنے والوں کو میت کے لیے دعائے مغفرت کرنی چاہیے ، مثلا: متعلقین کے سامنے یہ جملہ کہدیا جائے کہ اللہ تعالی مرحوم کی مغفرت فرمائے ، اس کی لغزشوں سے در گذر فرمائے اور متعلقین کو صبر عطا فرمائے اور جو کچھ اللہ توفیق دے ، قرآن پڑھ کر یا صدقات وغیرہ کرکے میت کو ثواب پہنچانا چاہیے ۔ ( احکام میت ) وَیُسْتَحَبُّ أَنْ یُقَالَ لِصَاحِبِ التَّعْزِیَةِ: غَفَرَ اللَّہُ تَعَالَی لِمَیِّتِکَ وَتَجَاوَزَ عَنْہُ وَتَغَمَّدَہُ بِرَحْمَتِہِ وَرَزَقَکَ الصَّبْرَ عَلَی مُصِیبَتِہِ وَآجَرَکَ عَلَی مَوْتِہِ، کَذَا فِی الْمُضْمَرَاتِ نَاقِلًا عَنْ الْحُجَّةِ.۔ ( الفتاوی الہندیة : ۱/۱۶۷)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات