• عقائد و ایمانیات >> حدیث و سنت

    سوال نمبر: 15746

    عنوان:

    میرا سوال یہ ہے کہ کیا بینک کی نوکری جائز ہے وہ کیشئر کی ہو یا چپراسی کی یا پھر مینیجرکی ، کسی بھی طرح کی نوکری جائز ہے یا نہیں؟

    سوال:

    میرا سوال یہ ہے کہ کیا بینک کی نوکری جائز ہے وہ کیشئر کی ہو یا چپراسی کی یا پھر مینیجرکی ، کسی بھی طرح کی نوکری جائز ہے یا نہیں؟

    جواب نمبر: 15746

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 1420=1420/1430/م

     

    سودی بینک میں بطور کیشئر یا مینیجر کام کرنا درست نہیں، کیوں کہ سود کے لکھنے پڑھنے، حساب کرنے اور گواہی دینے والوں پر لعنت وارد ہوئی ہے، بلا واسطہ سودی کاموں میں تلوث ہو یا ان پر اعانت ہو دونوں ناجائز ہیں، بطور چپراسی کام کی گنجائش ہے، لیکن یہ بھی بہتر نہیں، مسلمانوں کو حلال وطیب اور بے غبار ذریعہ معاش اختیار کرنا چاہیے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند