عقائد و ایمانیات - حدیث و سنت

India

سوال # 148144

کیا فرماتے ہیں علماء کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ پانی پینے کے جو اکثر طریقے رائج ہیں مثلاً کبھی سنتے ہیں کہ صبح اُٹھتے ہی اور سوتے وقت، اور نہانے کے بعد پانی پینا چاہیے اور کبھی یہ کہ نہیں پینا چاہیے ، اِسی طرح کھانا کھانے کے بعد، پہلے اور درمیان میں کیا کرنا چاہیے ؟ وغیرہ، الغرض اس تعلق سے بہت سی باتیں چل پڑی ہیں اور اکثر عوام اس بارے میں لا علمی کا شکار ہے کہ کتاب و سنت کی اصل بات کیا ہے ؟ لہٰذا راہنمائی فرمائیں۔

Published on: Jan 31, 2017

جواب # 148144

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 461-432/Sn=4/1438



حدیث میں تو یہ بتلایا گیا ہے کہ آدمی تین سانس میں پانی پیے اور پانی پیتے وقت برتن (مثلاً گلاس، کٹوری) میں سانس نہ چھوڑے اور جب پینا ہو بیٹھ کر پیے؛ باقی کب پینا چاہیے؟ کب نہیں پینا چاہیے؟ احادیث میں اس کا ذکر بندے کو نہیں ملا؛ البتہ علامہ ابن القیم رحمہ اللہ نے اپنی معروف کتاب ”طب نبوی“ میں لکھا ہے کہ نہار منھ ہمبستری کے بعد، نیند سے بیدار ہونے کے فوراً بعد نیز پھل کھانے کے فوراً بعد پانی نہ پینا چاہیے، اسی طرح کھانے کے دوران بھی بہت کم پانی پینا چاہیے، والماء العذب نافع للمرضی والأصحاء․․․․ ولا ینبغی شربہ علی الریق، ولا عقیب الجماع، ولا الانتباہ من النوم، ولا عقیب الحمام، ولا عقیب أکل الفاکہة․․․․ وأما علی الطعام، فلا بأس بہ إذا اضطر إلیہ؛ بل یتعین ولا یکثر منہ؛ بل یتمصصہ مصًّا․ الخ (الطب النبوی لابن القیم: ۱/ ۲۹۶، ط: دار الہلال، بیروت)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات