India

سوال # 57741

میں چنئی میں انجینئرنگ کی پڑھائی کررہاہوں، میرے کالج میں لڑکوں کے لئے ڈریس کوڈ داڑھی منڈوانا، جوتے پہننا اور نارمل کپڑا پہننا ہے، شروع میں میں نے داڑھی رکھ لی تھی مگر جب میرے امتحان کا وقت آگیا تو میرے صدر شعبہ نے مجھے داڑھی منڈوانے پر مجبور کیا اور میں نے منڈوادی ، داڑھی رکھنے کے لیے کالج اجازت نہیں دیتاہے، لیکن اب میں اچھا محسوس نہیں کررہا ہوں، اور میں نے سنا ہے کہ داڑھنی نہ رکھنے میں بڑا گناہ ہے اور کالج مجھے داڑھی رکھنے کی اجازت نہیں دتاہے، لیکن میں نے دیکھا ہے کہ ہندو طلبہ چالیس دن تک جوتے نہیں پہنتے ہیں جب ان کے یاترا کا وقت آتاہے، کالج ہندو طلبہ کو جوتے نہ پہننے کی اجازت دیتاہے مگر داڑھی رکھنے کی اجازت نہیں دیتاہے، نیز میں یہ کالج چھوڑ بھی نہیں سکتاہوں، کیوں کہ میرے دادانے مجھے یہاں جوائن کرایاہے، اگر میں کالج چھوڑ دیتاہوں تو مجھے آئندہ تین سال کی فیس بھرنی پڑے گی ، مجھے کیا کرنا چاہئے؟اس بارے میں میری مدد کریں۔کیا میں اپنی پڑھائی پوری ہونے تک داڑھی منڈواتا رہوں۔ میں نے سنا ہے کہ ہم قیامت کے دن لوگوں کو گواہ بنا سکتے ہیں، کیا میں ان لوگوں اس صورت حال میں رکھ سکتاہوں تاکہ میں گناہ سے آزاد ہوجاؤں؟

Published on: May 23, 2017

جواب # 57741

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 490-490/M=5/1436-U



جب کالج کے ضابطے میں جوتا پہننا بھی شامل ہے اور ہندو طلبہ کو یاترا کے وقت کالج والے جوتا نہ پہننے کی اجازت دیتے ہیں تو صرف مسلم طلبہ کے ڈاڑھی رکھنے پر اعتراض کیوں؟ آپ کو داڑھی نہیں منڈوانی چاہیے تھی، آپ کالج کی انتظامیہ سے مل کر پوری قوت کے ساتھ اپنی بات رکھیں کہ ڈاڑھی ہماری شریعت کا حصہ ہے، آپ مسلم پرسنل لاء میں مداخلت نہ کریں نیز جمعیة علمائے ہند کے ذمہ داروں تک شکایت پہنچائیں وہ حضرات اس بارے میں موٴثر طریقے پر کوشش کرسکتے ہیں۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات