India

سوال # 55040

میرا سوال یہ کیا اونٹ کا پیشاب استعمال کر سکتے ہے کیوں کی میری میرے ایک دوست سے ایسے ہی بات چل رہی تھی اس نے بخاری شریف کی حدیث پدی کہ نبی کریم ص. کے پاس کچھ لوگ اے کہ ہم گوگ بیمار ہے تو ان لوگو کو نبی کریم ص. نے حقم دیا آپ صداقت کے اونٹ کا پیشاب اور دودھ ملا کر پلے اور ان لوگو کو شفا ہو گیی براہے کرم اس بارے مے کیا حکم ہے بڑے کرم بہتے (کیا یہ منسوخ ہے ) یا فر شرف ان ہی لوگو کے لئے تھی

Published on: Aug 30, 2014

جواب # 55040

بسم الله الرحمن الرحيم

Fatwa ID: 1283-1280/N=11/1435-U

اونٹ اور گائے بھینس وغیرہ کا پیشاب حرام وناپاک ہے، اس کا پینا اور استعمال کرنا جائز نہیں، جمہور علما کا یہی مسلک ہے اور آپ کے دوست نے صحیح بخاری کی جو حدیث پیش کی ہے وہ منسوخ ہے یا آپ علیہ الصلاة والسلام نے قبیلہ عرینہ والوں کو بطور علاج اونٹ کا دودھ اور پیشاب پینے کی اجازت دی تھیں، کذا فی معارف السنن (۱: ۲۷۳، ۲۷۴ مطبوعہ مکتبہ اشرفیہ دیوبند)

واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات