Pakistan

سوال # 167494

مفتیان کرام کی خدمت میں عرض ہے کہ میں ملازمت کے سلسلے میں اپنے گھر اور شہر سے کافی دور رہتا ہون چونکہ میری ملازمت نئی ہے اور تنخواہ شروع نہیں ہوئی اور سننے میں آ رہا ہے کہ نیو ملازم کو تنخواہ کافی مہینوں کے بعد ملتی ہے ۔ اب سوال یہ ہے کہ چونکہ میرے اتنی استطاعت نہیں ہے کہ الگ گھر میں رہ سکوں اور اپنا کھانا پینا کر سکوں تو مجبوراً مجھے اپنے رشتہ داروں کے یہاں رھنا پڑ رہا ہے اور کھانا پینا بھی وہیں کرتا ہوں۔ اب میرا غالب گمان یہی ہے کہ ان کے گہر میں جو پیسہ آ رہا ہے وہ حرام کا ہے اور اسی سے گھر کا سارا نظام چل رہا ہے ۔ اب میرے لیے کیا حکم ہے کہ کیا میں مجبوری کی حالت میں ان کے گھر میں رہ سکتا ہوں اور کھانا وغیرہ کھا سکتا ہوں جب تک میری تنخواہ ہو اور اپنی رہائش ہو۔

Published on: Dec 27, 2018

جواب # 167494

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 517-398/B=04/1440



اگر آپ کے رشتہ دار کی ساری کمائی صرف حرام ہی حرام کی ہے، ان کے جائز کی کمائی بالکل نہیں ہے تو ایسے رشتہ دار کے یہاں آپ کے لئے کھانا جائز نہ ہوگا۔ اسی طرح اگر ان کی جائز اور ناجائز دونوں طرح کی کمائی ہے لیکن حرام کمائی زیادہ اور حلال کمائی کم ہے تو جب بھی ان کے یہاں آپ کا کھانا درست نہیں۔ ہاں اگر ان کی جائز و حلال کمائی زیادہ ہے اور حرام کمائی کم ہے تو ایسی صورت میں ان کے یہاں آپ کا کھانا درست رہے گا۔ اور اگر ساری کمائی حلال کی ہے تو پھر ان کے یہاں کھانا کھانے میں کوئی تردد نہیں، بلاشبہ ان کے یہاں کھانا کھاسکتے ہیں۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات