United States

سوال # 165425

میں اس وقت امریکہ میں رہتاہوں، یہاں گوشت کی بہت ساری دکانیں ہیں جن میں لکھا ہوتاہے؛” حلال میٹ سیلنگ شاپ‘دکان والے بھی کہتے ہیں کہ ذبیحہ حلال ہے۔
میرا سوال یہ ہے کہ اگر میں ذاتی طورپر دکانداروں سے ای میل یا کسی دوسرے ذریعہ سے پوچھوں ان کے طریقہ حلال کے بارے میں اور وہ جانکاری دے کہ جانوروں کو تسمیہ کے ساتھ ہاتھ سے ذبح کیا جاتاہے تو کیا میرے لیے دکاندار کی گواہی پر اس گوشت کو کھانا جائز ہوگا ؟ یا مجھے مزید انکوائری کرنی ہوگی؟ اگر مزید انکوائری کرنے کا کوئی دوسرا طریقہ نہ ہو تو کیا کرنا چاہئے؟ جب کہ بہت ساری ایسی دکانیں ہیں جو قابل بھروسہ ہیں، لیکن وہ دکانیں بہت مہنگی ہیں۔ واضح رہے کہ مالک دکان باعمل مسلمان ہے اور دکان کے اندر مصلی بھی ہے۔ براہ کرم، جواب دیں۔

Published on: Oct 23, 2018

جواب # 165425

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:89-61/L=2/1440



اگر مالکِ دوکان مسلمان باعمل ہے اور ذبح وغیرہ کے امور مسلمان ہی انجام دیتے ہیں تو ان کے قول پر اعتماد کرتے ہوئے گوشت کھانے کی گنجائش ہوگی ،مزید تحقیق کرنا آپ کے لیے ضروری نہ ہوگا۔ایک حدیث میں ہے:ان قوماً قالواللنبی صلی اللہ علیہ وسلم :ان قوماً یأتوننا بلحم لاندري أذکراسم اللہ علیہ أم لا؟فقال:سمواعلیہ أنتم وکلوہ،قالت وکانوا حدیثی عہد بالکفر․(بخاری شریف: باب ذبیحة الأعراب ونحوہم)



”ایک قوم کے کچھ لوگوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ کچھ لوگ ہمارے پاس گوشت لاتے ہیں اور ہمیں یہ معلوم نہیں ہوتا کہ ذبح کرتے وقت انھوں نے اس پر اللہ کا نام لیا تھا یانھیں؟حضوراقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تم اللہ کا نام لے کر اس کو کھالو،حضرت عائشہفرماتی ہیں کہ ان کا زمانہ کفر سے قریب تھا“(یعنی وہ ابھی نئے نئے مسلمان ہوئے تھے)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات