United Arab Emirates

سوال # 3674

میں جس کمپنی میں کام کرتاتھا ، اس میں ادھار شراب کا کاروبار تھا ، میں وہاں اکاؤنٹینٹ کی حیثیت سے کام کرتاتھا، میں نے چار سال وہاں کام کیا،اس کمپنی میں دوسرے کاروبار بھی تھے، لیکنمجھے اپنی تنخواہ ۹۰٪ شراب کے منافع میں سے ملتی تھی۔ اب میں وہاں ملازمت نہیں کرتاہوں۔ اللہ کے شکر سے مجھے دوسری جگہ ملازمت مل گئی ہے اورمیں وہاں جائز کام کرتاہوں۔ میں نے ان چار سال میں جو پیسے کمائے اس سے پاک ہونا چاہتا ہوں۔ (۲) پچھلے کئی برسوں سے میرے دماغ میں گندے خیالات آتے ہیں۔ نماز اتنی اچھی نہیں ہوتی کہ میرادل لگے، میں دنیوی مسائل سے گھراہواہوں، میں آدمی اورعورت دونوں کو دیکھنے لگاہوں، اس کی وجہ سے کافی پریشان ہوں، مسجد میں جاکر روتابھی ہوں۔ براہ کرم، ہماری رہ نمائی فرمائیں۔

Published on: May 3, 2008

جواب # 3674

بسم الله الرحمن الرحيم

فتوی: 343/ ل= 324/ ل


 


اس کے لیے اللہ سے توبہ و استغفار کریں اور اکر اللہ نے وسعت دے رکہی ہے تو حساب کرکے جتنے روپئے آپ نے ان چار سالوں میں کمائے تھے وہ آہستہ آہستہ اس کمپنی کو لوٹادیں لکن إذا علم المالک بعینہ فلاشک فی حرمتہ ووجوب ردہ علیہ (شامی: ج۷ ص۳۰۱، ط زکریا دیوبند)


(۲) آپ اپنے دل و دماغ سے چندے خیالات و دیگر رذائل باطنیہ کو دور کرنے کے لیے کسی اللہ والے کا انتخاب کریں اور اس کی صحبت کو لازم پکڑلیں، لیکن جب تک کوئی شیخ کامل نہ ملے اور گناہوں کا خیال آئے تو اولاً آپ خود سے اس کو دفع کرنے کی کوشش کریں اور اکر بدنظری کا خطرہ ہو تو نگاہوں کو ایسے مواقع میں جہاں عورتیں ہو نیچی رکھیں اوراگر اس کے باوجود ہواہش ہو تو اللہ کا ذکر شروع کردیں اور اللہ کے وعیدوں کا استحضار کریں اور گناہ ہوہی جائے تو فوراً اللہ سے توبہ و استغفار کرکے اس کو معاف کرالیں، حدیث شریف میں: التائب من الذنب کمن لا ذہب لہ گناہوں سے توبہ کرنے والا ایسا ہے جیسا کہ اس نے گناہ کیا ہی نہیں۔


واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات