India

سوال # 169367

توبہ کی کتنی شرطیں ہیں؟ اور کون کون سی ہے؟ وضاحت فرمائیں۔

Published on: Mar 13, 2019

جواب # 169367

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:606-510/sd=7/1440



اگر کسی آدمی سے گناہ کبیرہ صادر ہوجائے، تو اس سے توبہ کا طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے اس گناہ کو ترک کرے جو اس سے صادر ہوا ہے اور اللہ کے حضور ندامت اور شرمندگی کے ساتھ معافی مانگے اور اس بات کا پختہ ارادہ کرے کہ آئندہ کبھی وہ گناہ نہیں کرے گا۔ امام نووینے توبہ کی یہ تین شرطیں لکھی ہیں: یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا تُوبُوا إِلَی اللَّہِ تَوْبَةً نَصُوحًا ․․․․ قال الآلوسی: أخرجہ ابن مردویہ عن ابن عباس قال: قال معاذ بن جبل: یا رسول اللہ ما التوبة النصوح؟ قال: أن یندم العبد علی الذنب الذی أصاب فیعتذر إلی اللہ تعالی ثم لا یعود إلیہ کما لا یعود اللبن إلی الضرع․ وقال نقلا عن الإمام النووی: التوبة ما استجمعت ثلاثة أمور: أن یقلع عن المعصیة وأن یندم علی فعلہا وأن یعزم عزما جازما علی أن لا یعود إلی مثلہا أبدا․ (روح المعانی: ۲۸/ ۱۵۹، ط: دار إحیاء التراث العربي)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات