India

سوال # 168723

مفتی صاحب، میرا سوال یہ ہے کہ میری ہمیشہ سے یہ خواہش رہی ہے کہ میرا خاتمہ نماز میں سجدے کی حالت میں ہو اور اس کے لئے میں ہمیشہ دعا بھی کرتا ہوں، میرا سوال یہ ہے کہ کہا میرا ایسا کرنا صحیح ہے اور اس کے لئے کوئی وظہفہ ہوتو عنایت کریں نوازش ہوگی۔ ساتھ ہی آپ حضرات سے مہرے اور میرے خاندان کے لئے خصوصی دعاوں کی درخواست ہے ۔

Published on: Mar 11, 2019

جواب # 168723

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:646-604/L=7/1440



مصیبت کے وقت موت کی تمنا کرنا یا اپنے آپ کو کوسنا درست نہیں؛ البتہ موت اسلام کی حالت میں آئے اور اچھی حالت میں آئے اس کی تمنا کرنے میں کوئی ممانعت نہیں ہے؛ لہٰذا سجدے کی حالت میں موت ہونے کی تمنا کی جاسکتی ہے۔



یکرہ تمنی الموت لغضب أو ضیق عیش (الدر المختار) وفي رد المحتار: أقول: والحدیث الأول في صحیح مسلم: لا یتمنین أحدکم الموت لضر نزل بہ فإن کان لا بد متمنیا فلیقل: اللہم أحینی ما کانت الحیاة خیرا لي وتوفنی إذا کانت الوفاة خیرا لی (شامی: ۹/ ۶۰۱، ط: زکریا دیوبند) اچھی موت کے لیے آپ یہ دعا کرتے رہیں: ”اللہم بارک لي في الموت وفیما بعد الموت“ اے اللہ! موت اور موت کے بعد کی زندگی میں برکت دے۔ جو شخص روزانہ اس دعا کو پچیس مرتبہ پڑھے پھر اس کی موت ہو تو بعض کتابوں میں ہے کہ اس کو شہید کا ثواب ملتا ہے۔ ومن قال کل یوم خمسا وعشرین مرة: اللہ بارک لي في الموت وفیما بعد الموت ثم مات علی فراشہ أعطاہ اللہ أجر شہید․ (رد المحتار: ۳/ ۶۵، باب الشہید، ط: زکریا دیوبند)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات