Pakistan

سوال # 168555

میرا سوال یہ ہے کہ اگر کوئی انسان اللہ سے وعدہ کرتاہے کہ وہ دوبار یہ گناہ نہیں کرے گا اور پھر اگر وہ دوبار ہ وہ گناہ کرلیتاہے تو پھر انسان کو کیا کرنا چاہئے؟میں نے اس طرح سے اللہ سے وعدہ کیا تھا کہ میں یہ گناہ نہیں کروں گا اور مجھ سے ہوگیا تو میں نے دوبارہ پکی توبہ کی ہے تو کیا اللہ مجھے معاف کردے گا؟ براہ کرم، اس بارے میں میری رہنمائی فرمائیں کہ مجھے کیا کرنا چاہئے؟
دوسرا سوال یہ ہے کہ تنہائی میں مجھ پر شیطان حاوی ہوجاتاہے اور مجھ سے گناہ سرزد ہوجاتاہے، اس سے بچنے کے لیے مجھے کوئی صحیح حل بتادیجئے اور میرے لیے دعا کیجئے کہ اللہ مجھے ان گناہوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے اور اس کی کے علاوہ مجھے اپنی رحمت سے سائے میں رکھے، آمین۔
اللہ کو جزائے خیر عطا فرمائے۔

Published on: Feb 26, 2019

جواب # 168555

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:486-460/sd=6/1440



 (۱) اللہ کی رحمت بہت وسیع ہے، اگر توبہ کرنے کے بعد اتفاقا گناہ ہوجائے ، تو پھر سچی توبہ کرلینی چاہیے ، ان شاء اللہ گناہ معاف ہوجائے گا ، اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے ۔



(۲)بے کاری اور فارغ رہنا عموما گناہ کا سبب بن جاتا ہے ؛ اس لیے دینی یا دنیوی مفید کاموں میں مشغول رہنا چاہیے ، زندگی کا ایک نصب العین مقرر کرکے شرعی حدود کا پابند بن کر زندگی گذارنی چاہیے ۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات