Pakistan

سوال # 166728

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ،شریعت کی روشنی میں کیا تسبیحاتِ فا طمہ ہر نماز کے بعد دونوں ہاتھوں کی انگلیوں پر کرسکتے ہیں؟ کیونکہ بایاں ہاتھ تو استنجا وغیرہ میں استعمال ہوتا ہے ۔

Published on: Nov 22, 2018

جواب # 166728

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:267-263/L=3/1440



دائیں ہاتھ سے تسبیح پڑھنابہتر ہے، ایک حدیث میں صراحت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دائیں ہاتھ سے تسبیح پڑتھے تھے، نیز حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اچھے کاموں کے لیے داہنے ہاتھ کا استعمال فرماتے تھے ، لہذا دائیں ہاتھ سے تسبیح پڑھنا بہتر ہوگا؛ تاہم بائیں ہاتھ سے بھی تسبیح پڑھنا ناجائز نہیں ہے، حدیث شریف میں ہے کہ انگلیوں پر گنا کرو، اس لیے کہ انگلیوں سے قیامت میں سوال کیا جائے گا اور ان سے جواب طلب کیا جائے گا کہ کیا عمل کیے اور جواب میں گواہی دی جائیں گی، نیز اسی طرح کا مضمون قرآن پاک میں بھی متعدد جگہ وارد ہے کہ قیامت میں آدمی کے بدن سے اس کے ہاتھ پاوٴں سے بھی سوال ہوگا کہ ہرہرحصہٴ بدن نے کیا کیا نیک کام کیے اور کیا کیا ناجائز اور برے کام کیے۔



قال النووي: روینا في سنن أبي داوٴد والترمذي وفي سنن النسائي باسناد حسن عن عبد اللّٰہ بن عمرو رضي اللّٰہ عنہماقال: رأیت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یعقد التسبیح۔ وفي روایة: بیمینہ۔ ( الأذکار للنووي: ۱/ ۱۸، تحقیق: عبد القادر الأرنوٴوط، ط: دار الفکر، بیروت )وقال العیني: عن عبد اللّٰہ بن عمرو قال: رأیت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یعقد التسبیح۔ قال ابن قدامة: بیمینہ۔ ( شرح أبي داوٴد للعیني: ۵/ ۴۱۳، کتاب الصلاة، باب التسبیح بالحصی، ط: مکتبة الرشد، الریاض ) و عن عائشة رضي اللّٰہ عنہا قالت: کانت ید رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم الیمنی لطہورہ و طعامہ، وکانت یدہ الیسری لخلائہ وما کان من الأذی۔ ( أبو داوٴد، ص: ۵، ط: مکتبہ، بلال، دیوبند ) واعقِدْن بالأنامل فإنہن مسئولات مستنطقات، الحدیث (المشکاة: ۲۰۲)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات