India

سوال # 149954

جب قبرستان جائیں اپنے والدیا والدہ کی قبر پر تو وہاں جاکر کیا پڑھنا چاہیے اہل قبر کے لیے جس سے ان کوثواب پہنچے اور انکا قبر کا عذاب ختم ہو جائے یا اگر عذاب قبر نہ ہورہا ہو تو ان کے درجات اور بلند ہوجائیں۔ مہربانی کرکے مجھے بتانے کی زحمت کریں۔

Published on: Mar 13, 2017

جواب # 149954

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 485-460/N=6/1438



آپ جب قبرستان جائیں تو تمام اہل قبور کی نیت سے ان الفاظ میں سلام کریں:السلام علیکم یا أھل القبور! یغفر اللہ لنا ولکم، أنتم سلفنا ونحن بالأثر، جامع ترمذی کی روایت میں ہے: حضرت نبی کریم صلی الہ علیہ وسلم مدینہ منورہ میں چند قبروں کے پاس سے گذرے تو آپ (صلی اللہ علیہ وسلم)نے اہل قبور کو انہی الفاظ میں سلام فرمایا (مشکوة شریف ص ۱۵۴)، اس کے بعد آپ اپنے والدین کی قبر پر جائیں اور قبلہ کی طرف پیٹھ کرکے چہرہ صاحب قبر کی طرف کریں اور حسب توفیق قرآن کریم کی مختلف سورتیں یا آیات وغیرہ پڑھ کر جیسے: سورہ ملک، سورہ یس، سورہ زلزال ، سورہ اخلاص ، سورہ تکاثر اور آیت الکرسی وغیرہ پڑھ کر مرحوم یا مرحومہ یا دونوں کا ان کا ثواب بخش دیں اور ان کے لیے دعائے مغفرت کریں، اگر ان پر عذاب ہورہا ہوگا تو إن شاء اللہ ختم ہوجائے گا ورنہ ان کے درجات بلند ہوں گے۔ فإذا بلغ المقبرة یخلع نعلیہ ثم یقف مستقبل مستدبر القبلة مستقبلاً لوجہ المیت ویقول: السلام علیکم یا أھل القبور! یغفر اللہ لکم ولنا، أنتم سلفنا ونحن بالأثر کذا فی الغرائب(الفتاوی الھندیة، کتاب الکراھیة، الباب السادس عشر في زیارة القبور وقراء ة القرآن فی المقابر، ۵: ۳۵۰، ط: مکتبة زکریا دیوبند)، وفي شرح اللباب: ویقرأ من القرآن ما تیسر لہ من الفاتحة وأول البقرة إلی المفلحون وآیة الکرسي وآمن الرسول وسورة یس وتبارک الملک وسورة التکاثر وسورة الإخلاص اثني عشر مرة أو عشراً أو سبعاً أو ثلاثاً، ثم یقول: اللھم أوصل ثواب ما قرأناہ إلی فلان أو إلیھم اھ (رد المحتار، کتاب الصلاة، باب صلاة الجنازة، ۳: ۱۵۱، ط: مکتبة زکریا دیوبند)۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات