عقائد و ایمانیات - دعوت و تبلیغ

India

سوال # 786

الحمد للہ، میں پنج وقتہ نماز پڑھتاہوں، قرآن کی تلاوت کرتاہوں۔ میری والدہ مجھ کو جماعت میں نہیں جانے دیتیں۔ میں اتوار کا بیان سننے جاتا ہوں۔ الحمد للہ میں آٹھ سال سے جماعت کے لوگوں سے مربوط ہوں۔ میرا مسئلہ یہ ہے کہ آج کل میں سوچتاہوں کہ مسلمان ہونے کی حیثیت سے میں جملہ فرائض اداکرتاہوں ، علاوہ ازیں مجھے مسلمان بھائیوں کونماز وغیرہ کے لیے کہتے رہنا چاہیے۔ میں نے مولانا سعد صاحب سے سناکہ تھوڑاساوقت اللہ کی راہ میں نکلنا بہت زیادہ ثواب ہے بہ نسبت گھر میں عبادت کے۔ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اگر اسلام کے متعلق کوئی بات معلوم ہوتو اسے دوسروں کو بتاؤ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعدیہ ہمارا فرض ہے کہ ہم لوگوں کو اسلام کی طرف دعوت دیں۔ اگر میں اپنی والدہ کی اجازت کے بغیر نکلوں توکیا ہوگا، کچھ نہیں۔ لیکن مجھ میں ایک بڑی کمی ہے کہ اگر کوئی میرے معاملہ میں دخل انداز ہوتاہے تومیں اس کو برداشت نہیں کرپاتا ہوں۔ مثلاً اگر میں جماعت میں جانے کا فیصلہ کرلوں اورمیری والدہ روکیں، تو اگر میں کچھ غلط بات کہہ دوں گا تویہ بھی غلط ہوگا۔ اوراپنے دوستوں جماعت میں جاتے دیکھ کرمجھے ایسا محسوس ہوگاکہ میرے دوست اللہ کی رحمت کے حصول میں مجھ سے آگے ہیں اور میں کچھ نہیں کررہا ہوں۔ براہ کرم، اس سلسلے میں میری رہ نمائی فرمائیں۔

Published on: Jun 24, 2007

جواب # 786

بسم الله الرحمن الرحيم

(فتوى: 245/د=236/د)


 


آپ کی والدہ صاحبہ کی دیکھ ریکھ خدمت کرنے والا اگر آپ کے علاوہ کوئی اور نہیں ہے تو آپ کے ذمہ والدہ کی اطاعت اور خدمت واجب ہے، بغیر ان کی اجازت اور ان کی ضروریات کا انتظام کیے، جماعت میں جانا درست نہیں۔ اور اگر آپ کے علاوہ اور بھائی بہن یا والد ان کی خدمت اور ضرورت کو پوری کرنے والے موجود ہیں تو جماعت میں جانے سے روکنے کے سلسلہ میں والدہ کا کہنا ماننا آپ پر واجب نہیں ہے، اگر ان کی مرضی کے بغیر بھی آپ چلے گئے تو گنہ گار نہیں ہوں گے۔ لیکن پھر بھی بہتر یہ ہے کہ آپ خدمت و اطاعت کے ذریعہ کسی طرح والدہ کو راضی کرکے ہی جماعت میں جائیں۔ والدہ کو ناراض کرکے جماعت میں جانا اگرچہ جائز ہے؛ لیکن آپ راضی کرنے کی کوشش کریں، ایک مرتبہ منع کردیں، دوبارہ ان کو راضی کریں، اس کے فائدے اور فضیلت ان کے سامنے ذکر کریں، بہتر ہے کہ فضائل اعمال، حیاة الصحابہ کتاب گھر میں بھی تھوڑی مقدار ہی میں سہی پڑھنے اور سننے کا معمول بنائیں تاکہ ان کا ذہن بھی اس کی اچھائیوں سے واقف ہوجائے۔ آپ جماعت میں جانے کے لیے بیتاب ہیں، دوسرے ساتھیوں کو دیکھ کر پیچھے رہ جانے کا احساس ہے لیکن آپ کی نیت اس کام میں وقت لگانے کی ہے تو اگر کبھی کبھار والدہ کا خیال کرکے رک بھی جائیں تو کوئی حرج نہیں ہے، آپ کو آپ کی نیت کا ان شاء اللہ ثواب ملے گا۔ مقامی طور پر کام میں لگے رہیں اور بیانات میں شرکت کریں۔


واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات