عقائد و ایمانیات - دعوت و تبلیغ

India

سوال # 251

تبلیغی جماعت کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ والسلام

Published on: Apr 21, 2007

جواب # 251

بسم الله الرحمن الرحيم

(فتوى: 19/د=20/د)


 


یہ امت امت دعوة ہے یعنی دعوة الی اللہ اس امت کی بنیادی ذمہ داری ہے، ارشاد خداوندی ہے وَلْتَکُنْ مِّنْکُمْ اُمَّةٌ یَدْعُوْنَ اِلَی الْخَیْرِ وَیَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَیَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُونَ ( آل عمران: آیت:104)



ترجمہ: اورتم میں ایک جماعت ایسی ہونا ضروری ہے کہ (اور لوگوں کو بھی) خیر کی طرف بلایا کریں اور نیک کاموں کے کرنے کو کہا کریں اور برے کاموں سے روکا کریں اورایسے لوگ (آخرت میں ثواب سے) پورے کامیاب ہوں گے۔


دوسری جگہ ارشاد ہے وَمَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّن دَعَا اِلَی اللّٰہِ وَعَمِلَ صَالِحًا وَقَالَ اِنَّنِیْ مِنَ الْمُسْلِمِینَ (حٰمٓ سجدة: آیت:33)


 


پہلی آیت میں یہ ہدایت دی گئی ہے کہ مسلمان صرف اپنے اعمال و افعال کی اصلاح پر بس نہ کریں بلکہ اپنے دوسرے بھائیوں کی اصلاح کی فکر بھی ساتھ ساتھ رکھیں۔


 


دوسری آیت میں فرمایا گیا ہے کہ انسان کے کلام میں سب سے افضل و احسن وہ کلام ہے جس میں دوسروں کو دعوت حق دی گئی ہو، اس میں دعوت الی اللہ کی سب صورتیں داخل ہیں، زبان سے تحریر سے یا کسی اور عنوان سے۔ (معارف القرآن: ج7،ص652)


 


رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے لے کر آج تک ہردور میں امت مسلمہ انفرادی اور اجتماعی طور پر اس فریضہ کو انجام دیتی رہی ہے۔ تعلیم و تدریس، وعظ و تبلیغ، تصنیف و تالیف، تزکیہ و احسان یہ سب ہی امر بالمعروف، نہی عن المنکر کے ذریعہ دعوت الی اللہ کے طرق ہیں۔


 


تبلیغی جماعت جس کو ہمارے بزرگوں نے قائم فرمایا ہے یہ بھی دعوت الی اللہ کا ایک طریقہ ہے جس سے بے نمازی نماز کے پابند اور مسجد سے دور رہنے والے مسجد میں حاضر باش ہونے لگتے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ پر یقین اوراس کے فیصلوں پر یقین اور آخرت پر یقین پیدا کرنے کی محنت کی جاتی ہے جو ایمان کی بنیاد ہے۔ اور ہرمومن کے لیے ضروری ہے ۔


واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات