عقائد و ایمانیات - دعوت و تبلیغ

India

سوال # 1722

تبلیغی ولوں میں فرقہ بندی کی بوباس آنے لگی ہے، جیسے وہ باربار کہتے ہیں ?اپنے ساتھی ، اپنے ساتھی? ۔ کوئی معاملہ ہویارویت نکالنی ہو تو اپنے ساتھی ہونے کو اجاگر کرتے ہیں، تعاون یا مدد کو چھوڑکوکر زکاةکے معاملے میں اپنے ساتھی دیکھے جاتے ہیں ، نیز آجکل علماء بیزاری ہی نہیں بلکہ علماء دشمنی بھی ان میں عام ہوتی جارہی ہے جس کی مثالیں آئے دن پیش آتی رہتی ہے، کیا یہ رویہ عصبیت ، جاہلیت نہیں ہے؟ کوئی عالم بغرض اصلاح کچھ کہے تو اسے مطعون کیا جاتاہے ، تبلیغ مخالف قرار دیاجاتاہے۔ مسجد کے امام ہوں اور متولی تبلیغی ہوں تو اسے برخواست کردیا جاتاہے، مسائل کے سلسلے میں کہا جاتاہے کہ دعوت کے کام میں جڑے مفتی سے دریافت کرنا چاہئے،۔ براہ کرم، اس سلسلے میں ضروری رہنمائی فرمائیں

Published on: Oct 4, 2007

جواب # 1722

بسم الله الرحمن الرحيم

فتوی: 1462/ ھ= 1143/ ھ


 


ہرجماعت کے اصول و ضوابط حجت ہوتے ہیں افراد کی کوتاہی کو اصول کا درجہ دے کر معاملہ کرنا اصولاً غلط ہے اس کے علاوہ آپ نے جو کچھ تفصیل اپنے سوال میں لکھی ہے اس میں بعض باتیں تو بلا کسی دلیل کے تحریر کی ہیں، مثلاً بغیر کسی وجہ شرعی کے کسی عالم سے بیزاری بلکہ دشمنی کی کیا دلیل ہے؟ اسی طرح عصبیت جاہلیت کا حکم لگادینا نرا تحکم اور زیادتی ہے اگر کوئی شخص اپنا مال خرچ کرنے میں یا کسی کام کے لینے میں اپنے ساتھی کو ترجیح دے تو یہ کس درجہ کا گناہ ہے؟ اسی طرح جس عالم یا مفتی پر اعتماد ہو مسائل میں اسی کی طرف رجوع کو مختص کرلیا جائے اس میں کتنے بڑے گناہ کا ارتکاب ہے؟ حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا صاحب مہاجر مدنی -رحمہ اللہ- کی کتاب ?تبلیغی جماعت پر اعتراضات اور ان کے جوابات? اور اس میں بھی خاص طور پر وہ تقریر جو جماعتوں کی روانگی کے وقت حضرت اقدس مولانا محمد عمر صاحب پالنپوری رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے اس تقریر کے ایک ایک حرف کا بار بار مطالعہ کیجیے اس کے علاوہ فتاویٰ محمودیہ جلد اول میں اس سے متعلق فتاویٰ کوملاحظہ کیجیے اس کے بعد جو اشکال رہے اس کو لکھیں تب ان شاء اللہ تفصیل سے جواب لکھ دیا جائے گا۔


واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات