India

سوال # 533

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ


قدم بوسی جائز ہے یا نہیں اور اس کا کرنے کا طریقہ کیا ہے؟ دلائل سے معلوم کرنا چاہتے ہیں۔

Published on: May 30, 2007

جواب # 533

بسم الله الرحمن الرحيم

(فتوى: 313/ن=300/ن)


 


برزگانِ دین اور صلحاء کے قدم کو بوسہ دینا اگرچہ جائز ہے مگر ترک اولیٰ ہے تاکہ عوام فتنہ میں نہ پڑجائے طلب من عالم أو زاھد أن یدفع إلیہ قدمہ ویمکنہ من قدمہ لیقبلہ أجابہ وقیل لا یرخّص فیہ . وفي رد المحتار: قولہ *أجابہ* لما أخرجہ الحاکم أن رجلاً أتی النبي صلی اللّہ علیہ وسلم فقال: یا رسول اللّہ صلی اللّہ علیہ وسلم أرنی شیئًا ازداد بہ یقینًا ... إلی ... قال: ثم أذن لہ فقبل رأسہ ورجلیہ (الحدیث) وقال صحیح الإسناد (رد المحتار مع الدر: 9/550، ط زکریا دیوبند)


واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات