India

سوال # 167099

امید کہ بخیر ہوں گے ، عرض خدمت سوال یہ ہے کہ ناپاکی کی حالت میں آدمی بدن کے بال جیسے زیر ناف بغل یا مونچھ کے بال وغیرہ نکال سکتا ہے یا نہیں ؟اگر نہیں نکال سکتا تو وجہ کیا ہے ؟اور ناجائز ہے یا مکروہ ہے ؟ براہ کرم جواب مطلوب ہے ۔

Published on: Dec 8, 2018

جواب # 167099

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:291-233/N=3/1440



(۱): جنابت (ناپاکی) کی حالت میں بدن کے بال یا ناخن کاٹنا جائز ہے؛ البتہ نہ کاٹنا بہتر ہے۔(عزیز الفتاوی،ص: ۷۳۸، سوال: ۱۳۳۲، مطبوعہ :دار الاشاعت کراچی، فتاوی دار العلوم دیوبند، ۱۶: ۲۴۶، سوال: ۴۶۲، مطبوعہ: مکتبہ دار العلوم دیوبند، امداد الفتاوی جدید مع حاشیہ مفتی شبیر صاحب مدرسہ شاہی مراد، ۱: ۲۵۵، مطبوعہ: مکتبہ زکریا دیوبند)۔



حلق الشعر حالة الجنابة مکروہ وقص الأظافیر کذا فی الغرائب (الفتاوی الھندیة، کتاب الکراھیة، الباب التاسع عشر في الختان والخصاء الخ، ۵: ۳۵۸، ط: المطبعة الکبری الأمیریة، بولاق، مصر)، و-یکرہ قص الأظفار- في حالة الجنابة وکذا إزالة الشعر لما روی خالد مرفوعاً من تنور قبل أن یغتسل جاء تہ کل شعة فتقول: یارب! سلہ لم ضیعني ولم یغسلني کذا في شرح شرعة الإسلام عن مجمع الفتاوی وغیرہ (حاشیة الطحطاوي علی المراقي، کتاب الصلاة، باب الجمعة، ص: ۵۲۵، ط: دار الکتب العلمیة بیروت)، لکن ذکر ابن وھبان أنہ لا بأس بہ وأشار إلیہ بقولہ: ومن شاء تنویراً فقالوا: ینور (المنظومة الوھبانیة، ص: ۱۹۲، ط: مکتبة الفجر دمشق) (الھامش علی حاشیة الطحطاوي علی المراقي، ص: ۵۲۵) ۔



(۲): بہتر نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ غسل کے ذریعہ نکالے جانے والے بال اور ناخن کی بھی جنابت دور ہوجائے۔



(۳): صرف خلاف اولی ہے، ناجائز یا مکروہ تحریمی نہیں ہے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات