UK

سوال # 166092

فتاوی رشیدیہ صفحہ چھہ سو ایک میں لکھا ہے کہ مرد و عورت کے لئے لوہے اور پیٹل کی انگو ٹھی پہننا مکروہ تنزیھی ہے نہ کہ تحریمی کیونکہ مسلہ مجتھد فیھا ہے اور شوافع کے نزدیک درست ہے ، میرا سوال یہ ہے کہ کیا یہ فتاوی صحیح ہے اور کیا مرد و عورت کے لئے سونے ور چاندی کے علاوہ ہر قسم کی نگو ٹھی پہننا مکروہ تنزیہی ہے ؟ اگر کوئی مرد و عورت سونے ور چاندی کے علاوہ کی ا نگو ٹھی پہننے تو کیا گناہ ہوگا؟ جس حدیث میں حضورعلیہ السلام نے ایک صحابی کو لوہے کی انگو ٹھی پہننے سے منع کیا تھا اس کا مطلب کیا ہے ؟ کیا وہ ممانعت اس صحابی کے لیے خاص ہے یا عام سب لوگوں کے لیے ہے ؟ کیا اس کے علاوہ بھی ممانعت والی کوئی صحیح حدیث ہے اگر ہے تو اس کا مطلب کیا ہے ؟ عبد اللہ بن بریدہ نے اپنے والد ماجد سے روایت کی ہے کہ ایک آدمی حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور اس نے پیتل کی انگوٹھی پہنی ہوئی تھی۔ آپ نے اس سے فرمایا: کیا بات ہے کہ مجھے تم میں سے بتوں کی بو آرہی ہے ؟ اس نے وہ پھینک دی اور پھر لوہے کی انگوٹھی پہن کر حاضر ہوا، آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا بات ہے کہ میں تمہیں دوزخیوں کا زیور پہنے ہوئے دیکھ رہا ہوں؟ تو اس نے وہ پھینک دی، اور عرض گزار ہوا: یا رسول اللہ(صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم)! میں کس چیز کی انگوٹھی پہنوں؟ آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا چاندی کی پہنو جو ایک مثقال سے کم ہو۔ ابی داود، السنن، 4: 90، رقم: 4223 ترمذی، السنن، 4: 248، رقم: 1785، دار احیاء التراث العربی بیروت

Published on: Oct 25, 2018

جواب # 166092

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 167-155/M=2/1440



عورت کے لئے سونے چاندی کی انگوٹھی بلا کراہت جائز ہے، مرد کے لئے سونے کی انگوٹھی حرام ہے البتہ چاندی کی انگوٹھی ایک مثقال سے کم وزن کی استعمال کی اجازت ہے اور سونے اور چاندی کے علاوہ کسی اور دھات کی انگوٹھی مرد و عورت دونوں کے لئے مکروہ ہے اور جان بوجھ کر مکروہ کا ارتکاب گناہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی کو لوہے کی انگوٹھی پہننے سے منع کیا تھا یہ واقعہ اگرچہ خاص ہے لیکن ممانعت عام ہے۔ والتختم بالحدید والصفر والنحاس والرصاص مکروہ للرجال والنساء ۔ (شامی: ۹/۴۳۸، اشرفی دیوبند)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات